جمعرات 29 اکتوبر 2026 - 17:28
جناب سیدہ فاطمہ زہراء کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ تھی: مولانا سید احمد رضوی

حوزہ/ جامعہ امام مہدیؑ اعظم گڑھ میں ایامِ فاطمیہؑ کی مناسبت سے منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید احمد رضوی نے قرآنِ مجید اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستگی کو دینی و اخلاقی زندگی کی بنیاد قرار دیا اور سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو عملی زندگی میں اپنانے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ امام مہدیؑ اعظم گڑھ میں ایامِ فاطمیہؑ کی مناسبت سے مجلسِ عزا کا انعقاد کیا گیا؛ مجلسِ عزاء سے مدرسہ امام جعفر صادقؑ جونپور کے مولانا سید احمد رضوی نے خطاب کیا۔

جناب سیدہ فاطمہ زہراء کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ تھی:مولانا سید احمد رضوی

مجلسِ عزا کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا؛ جس کی سعادت قاری سید قائم عبّاس نے حاصل کی، جبکہ پیش خوانی شارب اعظمی، ظہیر اعظمی و رضا عباس نے کی۔

مجلسِ عزاء میں اساتید مدرسہ کے ساتھ ساتھ اطراف کے مؤمنین نے شرکت کرکے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا سے اپنی عقیدت و وابستگی کا اظہار کیا۔

جناب سیدہ فاطمہ زہراء کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ تھی:مولانا سید احمد رضوی

مولانا سید احمد عباس رضوی نے اپنے خطاب میں حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے آپؑ کی سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بالخصوص جنابِ سیدہؑ کی قرآنِ مجید سے غیر معمولی محبت اور گہری وابستگی کو موضوعِ سخن بنایا اور واضح کیا کہ قرآنِ مجید اور اہلِ بیت علیہم السلام سے تعلق محض عقیدت تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کا عملی اظہار ہماری روزمرہ زندگی میں بھی ہونا ضروری ہے۔

جناب سیدہ فاطمہ زہراء کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ تھی:مولانا سید احمد رضوی

انہوں نے حاضرین کو تاکید کی کہ سیرتِ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو اپنے لیے نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے قرآنِ مجید کی تعلیمات اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ہدایات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔

مولانا نے اس امر پر زور دیا کہ قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام سے مضبوط وابستگی ہی دینی و اخلاقی زندگی کی اساس ہے۔

جناب سیدہ فاطمہ زہراء کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ تھی:مولانا سید احمد رضوی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha